نئی دہلی، 6؍دسمبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )بہار کے صحافی راجدیو رنجن کے قتل کے معاملے میں شہاب الدین نے سپریم کورٹ میں کہا ہے کہ ان پر لگائے گئے الزام سیاست سے حوصلہ افزائی ہیں. میڈیا نے ان کے معاملے کو بڑا طول دیا ہے. اگر ان کو تہاڑ جیل ٹرانسفر کریں گے تو ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔شہاب الدین نے کہا کہ اگر سارے45کیسز سی بی آئی کو ٹرانسفر کئے گئے تو کیس کی سماعت میں اور تاخیر ہوگی کیونکہ معاملات سے متعلق دستاویزات جمع کرنے میں دو سال لگ جائیں گے۔آج شہاب الدین کی جانب سے بحث مکمل ہو گئی۔بدھ کو سی بی آئی اپنا موقف رکھے گی۔بہار کے آر جے ڈی کے رہنما محمد شہاب الدین اور ان کے خلاف مقدمات کو دہلی ٹرانسفر کرنے کو لے کر کورٹ نے اہم سماعت کی۔گزشتہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے بہار حکومت سے پوچھا تھا کہ اگر نچلی عدالت نے شہاب الدین کوبحث کیلئے وکیل مہیا کرایا تھا تو اس حکم کو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کی ضرورت کیا تھی. اگر شہاب الدین عدالت سے قانونی مدد مانگ رہا تھا تو اس کو دینے میں حرج کیا تھا. اس پر بہار حکومت نے کہا تھا کہ شہاب الدین کو قانونی مدد کی ضرورت نہیں تھی اور حکومت اس کا خرچہ نہیں اٹھانا چاہتی تھی، کیونکہ شہاب الدین کے قابل ہیں کہ وہ اپنے لئے کسی وکیل کو بحث کے لئے مقرر کر سکیں۔دراصل سیشن کورٹ نے شہاب الدین کو ان کے خلاف زیر التوا مقدمات میں بحث کے لئے لیگل ایڈ کے ذریعے وکیل فراہم کیا تھا جس کو بہار حکومت نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور ہائی کورٹ نے سیشن کورٹ کے حکم پر روک لگا دی تھی۔اس کے بعد اس کے خلاف تمام معاملات پر روک لگ گئی تھی۔وہیں بہار حکومت نے پھر کہا کہ شہاب الدین کو بہار سے ٹرانسفر نہ کیا جائے اور نہ ہی کیس کو۔وہیں شہاب الدین کی جانب سے کہا گیا کہ وہ گزشتہ11سال سے جیل میں ہیں، ایسے میں اس کے پاس پیسے نہیں ہیں کہ وہ بحث کے لئے وکیل رکھ سکیں۔کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کی طرف سے کہا گیا کہ جس طرف پپویادوکو بہار کی جیل سے دہلی کی تہاڑ جیل میں ٹرانسفر کیا گیا تھا اور کیس کی سماعت بہار میں ہی ہو رہی تھی اسی طرح شہاب الدین کو بہار سے تہاڑ جیل منتقل کرکے کیس کی سماعت بہار میں ہی کی جا سکتی ہے۔اگرضرورت ہو گی ہوشہاب الدین کوویڈیوکانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔سپریم کورٹ نے صاف کیا کہ جو صورتیں ہائی کورٹ کے سامنے زیرِ غور ہیں ان میں دخل نہیں دیں گے لیکن شہاب الدین کو بہار سے تہاڑ جیل ٹرانسفر کیا جائے یا نہیں، اس پرغورضرورکریں گے۔جومعاملے نچلی عدالت میں زیر التواء ہیں ان کودہلی ٹرانسفر کیا جائے یا نہیں یا پھر شہاب الدین کوتہاڑٹرانسفر کرکے نچلی عدالت میں سماعت جاری رکھیں گے۔اگر ضرورت ہو گی ہو شہاب الدین کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جا سکے گا۔